پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں ہونے والی
بارشوں کا پانی ہیئر دین ڈرین کے ذریعے نکالنے کے لیے زیر آب قومی شاہراہ
کو توڑ کر بڑے پائپ بچھانے کا کام دس روز کے بعد شروع کردیا گیا ہے۔
سندھ کے جاکھرانی اور بلوچستان کے جمالی قبائل میں
گزشتہ دس روز سے یہ بحث چل رہی تھی کہ متعلقہ جگہ سے سڑک کو کاٹ کر پانی
کو راستہ دیا جائے لیکن جمالی قبائل کے لوگ خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ ایسا
کرنے سے ان کے علاقے مزید ڈوب سکتے ہیں۔
دس روز کے بعد آخر کار جمالی قبائل خود ہی آمادہ ہوئے اور قومی شاہراہ
کو ممل نامی گاؤں سے بلوچستان کی جانب تھوڑا آگے کٹ لگایا گیا ہے جہاں سے
خیال ہے کہ اب بلوچستان اور سندھ کے سرحدی ضلع جیکب آباد کا پانی ہیئر دین
ڈرین میں جائے گا جہاں سے شہداد کوٹ کی حمل جھیل سے ہوتا ہوا ’ایم این وی‘
ڈرین کے ذریعے منچھر جھیل اور بعد میں دریائے سندھ میں گرے گا۔
سنہ دو ہزار دس میں جب کشمور سے دریائے سندھ کی بائیں جانب بند ٹوٹا تھا
تو اس وقت بھی پانی اسی راستے سے گزرا تھا اور ماہرین کے مطابق یہ راستہ
صدیوں سے پانی کی قدرتی گزر گاہ ہے۔
جیکب آباد سے حکمران پیپلز پارٹی کے منتخب رکن قومی اسمبلی اور سابق
وفاقی وزیر میر اعجاز جکھرانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بار
بارشوں اور نہروں کے پشتے ٹوٹنے سے جو پانی جمع ہے اس میں سب سے بڑی غفلت
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام نے برتی ہے۔
انہوں نے کہا ’نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے مجرمانہ غفلت برتی ہے اور سنہ
دو ہزار دس میں جب سیلاب آیا تھا تو سیم نالے سے آگے پوری سڑک بہہ گئی تھی
جس کے بعد یہ طے پایا تھا کہ سڑک بناتے وقت پانی گزارنے کے لیے پلیں بنائی
جائیں گی تاکہ پانی آسانی سے گزر سکے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔‘
دوسری جانب نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مقامی حکام کہتے ہیں کہ انہوں نے
سڑک بناتے وقت پانی گزارنے کے لیے بڑے پائپ بچھائے اور پلیں بھی بنائی ہیں۔
اس بارے میں اعجاز جکھرانی کہتے ہیں ’جب سنہ دو ہزار دس میں اتنی بڑی
تباہی آئی تو پلیں اور گزر گاہیں بھی بڑی بنانی چاہیے تھیں لیکن اب چھوٹے
پائپ جو بچھائے گئے ہیں وہ پانی گزارنے کے قابل نہیں اور یہی وجہ ہے کہ
پانی سڑک کے اوپر سے بہہ رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا ’نیشنل ہائی وے اتھارٹی والے انگریز کے دور میں بچھائی گئی
ریلوے لائن میں جس پیمانے کی پلیں ہیں اتنی کیوں نہیں بنائیں۔ جہاں ریلوے
لائن پر پل ہیں اس کے سامنے سڑک میں پل کیوں نہیں بنائے گئے‘؟۔
انہوں نے بتایا کہ وہ وزیراعظم سے شکایت کریں گے کہ اب کی بار جب سڑک
بنے تو اس جگہ سے بڑی پلیں ہوں تاکہ پانی کو آسانی سے گزرنے کا راستہ مل
سکے ورنہ جس طرح موسمی تبدیلی کے اثرات چل رہے ہیں اور تین برسوں سے مسلسل
یہ علاقے ڈوب رہے ہیں آئندہ بھی ڈوبتے رہیں گے اور سڑک بھی تباہ ہوتی رہے
گی۔
جیکب آباد کے مقامی لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان کی حد میں قومی شاہراہ کو
کٹ لگا کر پانی گزارنے کے بعد امکان ہے کہ دو سے تین روز میں جہاں سندھ
اور بلوچستان میں جمع بارش کا پانی نکلے گا وہاں دونوں صوبوں کو ملانے والی
قومی شاہراہ بھی کھلنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب دو روز سے معطل ہیلی کاپٹر سروس سنیچر بائیس ستمبر کو بحال کردی گئی ہے۔
رکن قومی اسمبلی اعجاز جکھرانی نے بتایا کہ وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا
تھا کہ جب تک ریلیف آپریشن جاری ہے تب تک دو ہیلی کاپٹر موجود رہیں گے۔
لیکن ان کے بقول دو روز سے ایک بھی ہیلی کاپٹر نہیں تھا جس کی وجہ سے چاروں
طرف پانی میں گھِرے گاؤں تک امداد نہیں پہنچ رہی تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب یہ صورتحال وزیر داخلہ کے علم میں لائی تو پھر دونوں ہیلی کاپٹر یہاں پہنچے اور امداد کام دوبارہ شروع ہوا ۔
اکثر گاؤں تو خالی تھے لیکن کچھ گاؤں کے لوگ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ
سڑکوں پر نظر آئے۔ ہیلی کاپٹر سے آٹے کے تھیلے گرائے گئے اور پانی میں
پھنسے لوگوں میں اس پر چھینا جھپٹی ہوتی رہی۔
No comments:
Post a Comment