اسلام و علیکم
پاکستان میں ہوئی بارشوں اور اس کی تباہ کاریوں کے بعد ایک مخلص پاکستانی کی حثیت سے فلاحی خدمات کی غرض سے اندروں سندھ کے متاثرہ لوگوں کی خدمات کا جذبہ لے کر روانہ ہو رہا ہوں.
آپ کی دعاؤں کا محتاج، منصور !
ایک خبر ایک دعوت!
سندھ میں بارشوں سے پچاس ہلاکتیں:
پاکستان کے صوبۂ سندھ کی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں
حالیہ بارشوں میں پچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں اور متاثرین کی بحالی کے کام
کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کا دعویٰ ہے کہ
حالیہ بارشوں میں صوبہ سندھ میں صرف چار افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم سندھ کے
وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئےکہا ہے کہ ان
کی اطلاعات کے مطابق سندھ میں پچاس افراد ہلا ک ہو چکے ہیں۔
سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ نیشنل ڈزاسٹر منیجمینٹ اتھارٹی یعنی
این ڈی ایم اے کا کوئی بھی اہلکار سندھ میں کوئی بھی نہیں آیا اور نہ ہی
کوئی مدد پہنچی ہے تاہم سندھ حکومت اپنے طور پر متاثرہ افراد کی مدد کر رہی
ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شدید متاثرہ علاقوں کشمور، کندھ
کوٹ، جیکب آباد اور شکارپور میں متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل
کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں جبکہ شکارپور کے بعض علاقوں میں کشتیاں
بھی چلائی جا رہی ہیں۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سید قائم علی شاہ نے
متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دینے اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو دو
دو لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔
یاد رہے کہ نیشنل ڈزاسٹر منیجمینٹ اتھارٹی کی ویب
سائٹ پر شائع کیے گئے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں حالیہ بارشوں کے
دوران نواسی افراد ہلاک اور اڑسٹھ زخمی ہوئے ہیں۔
ادارے کے مطابق خیبر پختون خواہ میں تینتیس، پنجاب
میں سات، آزاد جموں و کشمیر میں اکتیس،اسلام آباد میں تین، سندھ میں چار
اور بلوچستان میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
این ڈی ایم اے کے ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں
ساڑھ آٹھ ہزار ہزار کچے اور پکے مکانات متاثر ہوئے ہیں جن میں سے سندھ میں
صرف ایک مکان شامل ہے۔
دوسری جانب بالائی سندھ میں بارشوں کا زور کم
ہوگیا ہے تاہم زیریں سندھ کے اضلاع سانگھڑ، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین اور
ٹھٹہ میں بارش کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ سال کی بارشوں میں یہ اضلاع سب سے
زیادہ متاثر ہوئے تھے۔
No comments:
Post a Comment