اسلام و علیکم،
میں (منصور) اپنی ریلیف ٹیم (جس کی تفصیلات پچھلی پوسٹ میں موجود ہیں) کے ہمراہ یہاں کندھ کوٹ (سندھ) پہنچ گیا ہوں. کراچی سے یہاں تک کے سفر کے دوران ہم کو جگہہ جگہہ بارش اور بارشوں سے متاثرہ لوگوں کا سامنا کرنا پڑا، (افسوس) کے پچھلی بارشوں سے متاثرہ لوگ ہی ابھی تک اپنے گھروں تک نہیں جا سکے ہیں کہ ایک اور امتحان ہماری عوام کے سامنے آگیا ہے، الله پاک ہم سب (پاکستانی قوم) کو ان امتحانات سے سرخرو ہونے کی توفیق اور ہدایت عطا فرماے - آمین.
ہم لوگ انشا الله کل صبح سے ہی کندھ کوٹ کے سب سے زیادہ متاثر علاقے میں جا کر اپنے متاثرین بھائی، بہنوں اور بچوں میں غذائی اجناس تقسیم کریں گے اور پوری کوشش کریں گے کہ ہم کل ہی اپنا پہلا فری میڈیکل کیمپ یہاں لگا سکیں.
ایک افسوسناک سانحہ:
کراچی میں فیکٹری میں لگی آگ سے جھلس کر شہید ہونے والے افراد کے لئے ہم سب اب سے کچھ دیر بعد فاتحہ خوانی کر رہے ہیں جس میں انشا الله یہاں (کندھ کوٹ) کے مقامی افراد بھی بری تعداد میں شریک ہونگے.
ان افراد اور ان کے اہل خانہ کے لئے بہت کچھ کہا جا چکا ہوگا، مگر جس درد اور کرب سے یہ خاندان اس وقت گزر رہے ہونگے اور سری عمر گزرتے رہیں گے کا اندازہ لگانا نا ممکن ہے. ہم سب اب صرف ان خاندانوں کے لئے الله پاک سے صبر اور ہمت کی دعا کر سکتے ہیں.
"الله پاک ان خاندانوں، شہید ہونے والے افراد کے لواحقین، احباب اور پوری قوم کو صبر اور ہمت عطا فرماۓ - آمین."
یہ کوئی حادثہ ہر گز نہیں کہلایا جا سکتا بلکہ کچھ افراد کی غفلت، دنیا میں امارت بنانے کی کوشش میں الله پاک کے قوانین کو بھول جانے کی غفلت، اور بے بس لوگوں کے بے بسی کا عملی مظاہرہ تھا.
پاکستانی میڈیا (پرنٹ اور الیکٹرونک) کو بہت بہت مبارک ہو کہ "آپ سب کو کیش بنانے کا اور اپنے اداروں کو بہتر سے بہتر ثابت کرنے کا اور انسانیت کی بربادی کا تماشا دکھانے کا ایک اور موقع مل گیا."
جب سے ہوش سمبھالا ہے یہاں (پاکستان) میں اتنے حادثے اور سانحات دیکھے ہیں مگر کسی ایک بھی سانحہ کے مکروہ کردار نہ ہی عوام کے سامنے لائے گئے اور نہ ہی کسی عدالت میں ان کو سزا ہوئی. مگر ہمارا ایمان ہے کہ جس دں الله پاک کی عدالت لگے گی، اس دں ان سب مکروہ لوگوں کا ایسا احتساب ہوگا کے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن نہ ہوگا، اس وقت نہ ہی کسی کا کوئی پیسہ کام آئے گا، نہ ہی کوئی جان پہچان، نہ ہی کوئی رشتے داری نہ ہی کوئی پارٹی، نہ ہی کوئی پیر اور نہ ہی کوئی فقیر، نہ ہی کوئی ویزا اور نہ ہی کوئی حکومت. وہ دں سزا اور جزا کا دں ہوگا جب صرف ایک ہی منصف ہوگا اور کسی گواہ کی ضرورت نہ ہوگی. اس دں ایسے مکروہ لوگوں کا انجام دیکھ کر تمام مظلوم لوگ الله کی حمد و ثنا کرتے ہوۓ جنت میں داخل ہو جائیں گے اور ان مکروہ لوگوں کا انجام اور منزل جہنم اور صرف جہنم ہوگی.
رہی کسی بھی طرح کی رپورٹ یا تحقیقات کی بات تو یہ سب ڈرامہ ہے، جو کے اہل اختیار میڈیا کے ساتھ مل کر کھیل رہے ہیں. سانحہ ائر بلیو، سانحہ بھوجا ائر، کراچی میں محرم کے جلوس کے لوگوں کے قاتل، گلگت میں بسوں سے اتار کر اور شنقت کر کے لوگوں کو قتل کرنے والے لوگ، خان لیاقت علی خان کے قاتل، کوئٹہ میں ہزارہ وال کے بھائی بہنوں کے قاتل اور ہر طرح کے حادثے اور سانحے کے لئے بہت کمیشن بنے مگر کوئی ایک بھی کیفر کردار تک نہیں پہنچا تو اس عظیم اور دردناک سانحے کی کوئی رپورٹ یا کمیشن کا بگاڑ لے گی. کچھ روز (جب تک میڈیا والوں کا پیٹ نہ بھر جاۓ یا کوئی اور نرم گرم خبر ان کو نہ مل جاۓ) ہا ہا، واویلہ مچے گا، کچھ فوٹو سیشن ہونگے، کچھ دولت کے برسات کا مظاہرہ ہوگا کہیں سیاست چمکے گی، کہیں نام نہاد ملا (مولوی) صیہونی اور یہود و ہنود کو اس کا ذمہ دار بنائیں گے اور معاملہ آہستہ آہستہ پچھلے معملات کی طرح تاریخ میں کہی کھو جاۓ گا.
اور مجھ سمیت ہر پاکستانی کسی فرشتے، آسمانی مخلوق، معجزے، انقلاب کی امید میں ہی یا تو بس کف افسوس ملتا رہے گا یا پھر الله سے دعا مانگتا رہے گا، بھلا دعا بھی بغیر کسی عمل کے قبول ہوئی ہے؟
"خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس قوم کو شعور خد اپنی حالت بدلنے کا. . . "
میں اور میرے ساتھی متاثرہ خاندانوں کےغم، دکھ، تکلیف اور مصائب کی کمی، صبر اور ہمت کے لئے الله پاک کے حضور دعاگو ہے اور رہے گے. الله پاک ہم سب کو توبہ کرنے کی توفیق عطا فرماۓ، ہم کو ہدایت عطا فرماۓ اور مکروہ لوگوں کی چالوں، شر، فتنہ سے محفوظ رکھے - آمین.
آپ کی دعاؤں کے محتاج
منصور، فریال، ندیم اور دیگر دوست
No comments:
Post a Comment