Wednesday, September 26, 2012

Details of Funds, Donation, Social Services for the victim of Rain in Sindh

محترم دوستوں، ساتھیوں، ٹیم آشیانہ کے کارکنان، اور پڑھنے والے بھائی، بہنوں،
اسلام و علیکم!

الله پاک کے فضل و کرم، عنایات، مہربانیوں اور رحمتوں سے ٹیم آشیانہ کے کچھ دوستوں نے جو فلاحی کام سندھ اور بلوچستان کے بارش و سیلاب سے متاثرہ اپنے پاکستانی بھائی، بہنوں کے لئے شروع کیا، الله پاک نے ہمیشہ کی طرح مدد اور نصرت فرمائی (الله پاک کا شکر اور احسان ہے، نہیں کوئی ذات سواۓ الله کے جو کسی بھی طرح کی مدد کر سکے اور ساتھ دے سکے، صرف الله پاک ہی ہے جو ہم سب کی مدد دینے والا حاکم بے نیاز ہے)
یہاں (کندھکوٹ - سندھ) میں ہم (منصور اور سارے دوست) بہت خوش ہیں کہ ہمارے بھائی عدنان نے جو تربیت کر، فلاحی خدمات کا جو سبق سکھایا اور الله پاک پر توکل کرنے کی جو تعلیم دی ہم سب اسی کے ذریعے اپنے فلاحی مقصد میں کامیاب ہوۓ. الله پاک آنے والے وقت میں بھی ہماری مدد کرے اور ہم کو ہمت، صبر حوصلہ اور استقامت عطا فرماۓ- آمین.

آج الله پاک کے فضل سے ہمارے بھائی عدنان بھی ہم سے ملاقات کرنے اور ہماری فلاحی خدمات کا جائزہ لینے اور ہم کو مزید ہدایات دینے یہاں (کندھکوٹ - سندھ) پہنچ چکے ہیں. عدنان بھائی کی یہاں آمد سے ہم سب کو بہت حوصلہ ملا ہے. 

محترم دوستوں، ہم کو ملنے والے فنڈز، سامان، عطیات، ادویات و دیگر کی تفصیلات سے آپ سب کو آگاہ کرنا اور اپنی فلاحی خدمات کے بارے میں تفصیلات دینا بھی ہمارے فرائض میں ہے. 
سب سے پہلے ہم (دوستوں کا گروپ) اپنی بہن فریال کی یھاں آمد اور ہمارا ساتھ دینے پر دل کی گہرایوں سے شکر گزار ہیں. اور عدنان بھائی کی آمد پر بھی ہم سب ان کے شکر گزار ہیں.

ہم لوگوں کو ملنے والے فنڈز، سامان، ادویات، عطیات وغیرہ کی تفصیلات کچھ اس طرح سے ہیں:
Detail's of Funds, Aid, Medicines etc:
Clothes:
About 1800 clothes for Women, Children and Men (Old & Used)
About 270 pairs of Shoe, Chapal etc (Old & New)
About 100 Bed Sheets, Blanket, Carpet etc (Old & Used) 
 Food, Water etc:
Al Hamd Ul ALLAH, we based and managed a second largest mineral water supply in Kundh Kot - Sindh and Jeckobabad - Sindh. 

Mineral Water: 8000 liter, (Al-Hamd-ul- ALLAH)
Raw food stuff: Biscuits, Chips etc, 50kg 
Prepared food: Biryani, Pillaow, Daal / Rooti distributed into 2000 victims of rain and flood in Kundhkot - Sindh. (Alhamd Ul ALLAH)

Prepared food: Biryani, Pillaow, Daal / Rooti distributed into 500 victims of Rain and flood in Jackobabad - Sindh. (Alhmd Ul ALLAH)

Raw food stuff: 
Rice: 1000kg, (Purchased by us)
Beans (dalain): 200kg, (Purchased by us)
Flour (aata): 1500kg, (Purchased by us)
Cooking Oil: 50kg, (Purchased by us)
Spices (Masalah jaat): 50kg (Purchased by us)
Meat (Gosht): 500kg (Donated by an industrialist)
Other: Match box, Salt, Spices, etc (donated by different peoples)

Other Stuff:
Tent: 
1000 tents (donated by U.N Organization, W.H.O, CHEAF)
50 tents (Purchased by us)       
Candles: 500, Match box 500, Laltain 50, Coal 50kg, Wood for fire and cook 50kg etc.

Medicines:
General Medicines for free medical camp: Rs. 1,00,000/= (Purchased by us)
General Medicines for free medical camp: Rs. 35,000/= (Donation)    

Amount in the form of Money:
By Bank Account:
1- Donation from UAE: Rs. 50,000/=
2- Donation from K.S.A: Rs. 15,000/=
3- Donation from Canada: Rs. 20,000/=    
    Total Amount: Rs. 85,000/= (Eighty five thousands)
By Friends (Cash): "Alhamd Ul ALLAH we collected from our friends and friends of friends"
1- Ms. Badar-un-Nissa (Khi): Rs. 10,000/=
2- Faisal Bhai (Lhr): Rs. 5,000/=
3- Ahmad Bhai (Lhr): Rs. 5,000/=
4- Jahanger Bhai (Isb): 10,000=
5- Mansoor's Family (Khi): 15,000/=
6- Collection from Iqra University (Khi): Rs. 25,000/=
7- Collection from Szabist (Khi): Rs. 25,000/=             
    Total Amount: Rs. 95,000/= (Ninty five thousands only)

Dear all, 
Whatever we have done just with the help of Almighty ALLAH and your donations and contribution.
We have decided to stay here at Kundhkot - Sindh and will move to Nasirabad - Balochistan to help our Balochi victims brother and sister - Insha ALLAH.

We need your help, your contribution, your prayers much as more.
 So here're the details what we need for more work here:

List of Urgent Required Items:
(For the victims of Rain and Flood in Sindh and Balochistan)

1- Mineral Water: (unlimited quantity)
2- Food Stuff: "Raw and Prepared" (unlimited quantity) "We already making food and distributing into the victims from our cooking camp here at Kundhkot - Sindh"
3- Medicines: For free medical camp, All kind of the general medicines which can help us to medicate victims (women, children) specially for Fever, Cold, Skin diseases, etc 

Note: 
A brief list of required item can be send if required.

محترم دوستوں اور ساتھیوں، ان کچھ دنوں میں ہم نے جو کچھ بھی فلاحی خدمات سر   انجام دیں وہ صرف اور صرف الله پاک کی مدد سے ہی کر سکے، آپ سب دوست  لوگوں نے ہماری مدد کری کا بہت بہت شکریہ، ہم سب دوست آپ کے احسن مند ہیں اور آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ جو بھروسہ اوراعتماد آپ نے ہم پر کیا ہے انشا الله اس دنیا میں اور روز حشر آپ کو کسی بھی طرح شرمندہ نہ ہونے دیں گے. آپ کی دی ہوئی تمام اشیا، ادویات، کھانے پینے کا سامان، بچوں کے لئے کپڑے، اور جو بھی رقم آپ نے ہم کو دی ہے وہ الله پاک کے فضل و کرم سے صرف اور صرف یہاں کندھکوٹ اور آس پاس کے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ پاکستانی بھائی، بہنوں تک فوری طور پر پہنچانے کی کوشش کی  جاتی ہے.اس کہ علاوہ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی ذات کو بھی پوری طرح خدمات کے لئے وقف رکھیں.  جو بھی کر رہے ہیں وہ صرف اور صرف الله کے حکم کے مطابق انسانیت کی فلاح اور بقا کے لئے کر رہے ہیں. اور الله پاک پر پورا بھروسہ کرتے ہوے کر رہے ہیں. الله پاک ہم سب کو اپنے مقصد میں کامیاب فرماے اور ہم سے اسی طرح دن کی خدمت لیتا رہے - آمین.

دوستوں اور ساتھیوں، آپ کے سامنے جو کچھ ہم نے حاصل کیا  اور جو کچھ ہم کو فوری طور پر درکار ہے کی فہرست رکھ دی ہے، الله پاک سے دعا گو ہیں کہ الله پاک ہمیشہ کی طرح ہماری مدد اور نصرت فرماے - آمین.
 جزاک الله  
آپ کی دعاؤں اور مدد کے طلبگار 
منصور اور ساتھی 
فلاحی کارکنان برائے متاثرین بارش و سیلاب (سندھ اور بلوچستان)

ہم سے رابطہ کرنے کے لئے:
Syed Adnan Ali Naqvi
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
+92 345 297 1618

Syeda Faryal Zehra
faryal.zehra@gmail.com
+92 323 846 6089

Faisal Bhai
+92 313 258 4655

Mansoor Bhai
mansoorahmed.aaj@gmail.com
+92 313 279 8085
 
For online Donations:
Account title:  Mansoor Ahmed
Account number: 0010088246
Bank: United Bank Limited (UBL)
Branch: Gulistan e Joher
City: Karachi
Branch Code: 1921
Swift Code: UNILPKKA  
   

Sunday, September 23, 2012

سندھ: بارشوں کا پانی نکالنے کا کام شروع

پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں ہونے والی بارشوں کا پانی ہیئر دین ڈرین کے ذریعے نکالنے کے لیے زیر آب قومی شاہراہ کو توڑ کر بڑے پائپ بچھانے کا کام دس روز کے بعد شروع کردیا گیا ہے۔
سندھ کے جاکھرانی اور بلوچستان کے جمالی قبائل میں گزشتہ دس روز سے یہ بحث چل رہی تھی کہ متعلقہ جگہ سے سڑک کو کاٹ کر پانی کو راستہ دیا جائے لیکن جمالی قبائل کے لوگ خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ ایسا کرنے سے ان کے علاقے مزید ڈوب سکتے ہیں۔

دس روز کے بعد آخر کار جمالی قبائل خود ہی آمادہ ہوئے اور قومی شاہراہ کو ممل نامی گاؤں سے بلوچستان کی جانب تھوڑا آگے کٹ لگایا گیا ہے جہاں سے خیال ہے کہ اب بلوچستان اور سندھ کے سرحدی ضلع جیکب آباد کا پانی ہیئر دین ڈرین میں جائے گا جہاں سے شہداد کوٹ کی حمل جھیل سے ہوتا ہوا ’ایم این وی‘ ڈرین کے ذریعے منچھر جھیل اور بعد میں دریائے سندھ میں گرے گا۔
سنہ دو ہزار دس میں جب کشمور سے دریائے سندھ کی بائیں جانب بند ٹوٹا تھا تو اس وقت بھی پانی اسی راستے سے گزرا تھا اور ماہرین کے مطابق یہ راستہ صدیوں سے پانی کی قدرتی گزر گاہ ہے۔


جیکب آباد سے حکمران پیپلز پارٹی کے منتخب رکن قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر میر اعجاز جکھرانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بار بارشوں اور نہروں کے پشتے ٹوٹنے سے جو پانی جمع ہے اس میں سب سے بڑی غفلت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام نے برتی ہے۔

انہوں نے کہا ’نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے مجرمانہ غفلت برتی ہے اور سنہ دو ہزار دس میں جب سیلاب آیا تھا تو سیم نالے سے آگے پوری سڑک بہہ گئی تھی جس کے بعد یہ طے پایا تھا کہ سڑک بناتے وقت پانی گزارنے کے لیے پلیں بنائی جائیں گی تاکہ پانی آسانی سے گزر سکے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔‘

دوسری جانب نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مقامی حکام کہتے ہیں کہ انہوں نے سڑک بناتے وقت پانی گزارنے کے لیے بڑے پائپ بچھائے اور پلیں بھی بنائی ہیں۔

اس بارے میں اعجاز جکھرانی کہتے ہیں ’جب سنہ دو ہزار دس میں اتنی بڑی تباہی آئی تو پلیں اور گزر گاہیں بھی بڑی بنانی چاہیے تھیں لیکن اب چھوٹے پائپ جو بچھائے گئے ہیں وہ پانی گزارنے کے قابل نہیں اور یہی وجہ ہے کہ پانی سڑک کے اوپر سے بہہ رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا ’نیشنل ہائی وے اتھارٹی والے انگریز کے دور میں بچھائی گئی ریلوے لائن میں جس پیمانے کی پلیں ہیں اتنی کیوں نہیں بنائیں۔ جہاں ریلوے لائن پر پل ہیں اس کے سامنے سڑک میں پل کیوں نہیں بنائے گئے‘؟۔

انہوں نے بتایا کہ وہ وزیراعظم سے شکایت کریں گے کہ اب کی بار جب سڑک بنے تو اس جگہ سے بڑی پلیں ہوں تاکہ پانی کو آسانی سے گزرنے کا راستہ مل سکے ورنہ جس طرح موسمی تبدیلی کے اثرات چل رہے ہیں اور تین برسوں سے مسلسل یہ علاقے ڈوب رہے ہیں آئندہ بھی ڈوبتے رہیں گے اور سڑک بھی تباہ ہوتی رہے گی۔

جیکب آباد کے مقامی لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان کی حد میں قومی شاہراہ کو کٹ لگا کر پانی گزارنے کے بعد امکان ہے کہ دو سے تین روز میں جہاں سندھ اور بلوچستان میں جمع بارش کا پانی نکلے گا وہاں دونوں صوبوں کو ملانے والی قومی شاہراہ بھی کھلنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب دو روز سے معطل ہیلی کاپٹر سروس سنیچر بائیس ستمبر کو بحال کردی گئی ہے۔

رکن قومی اسمبلی اعجاز جکھرانی نے بتایا کہ وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا تھا کہ جب تک ریلیف آپریشن جاری ہے تب تک دو ہیلی کاپٹر موجود رہیں گے۔ لیکن ان کے بقول دو روز سے ایک بھی ہیلی کاپٹر نہیں تھا جس کی وجہ سے چاروں طرف پانی میں گھِرے گاؤں تک امداد نہیں پہنچ رہی تھی۔
 انہوں نے مزید بتایا کہ جب یہ صورتحال وزیر داخلہ کے علم میں لائی تو پھر دونوں ہیلی کاپٹر یہاں پہنچے اور امداد کام دوبارہ شروع ہوا ۔
اکثر گاؤں تو خالی تھے لیکن کچھ گاؤں کے لوگ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ سڑکوں پر نظر آئے۔ ہیلی کاپٹر سے آٹے کے تھیلے گرائے گئے اور پانی میں پھنسے لوگوں میں اس پر چھینا جھپٹی ہوتی رہی۔

Tuesday, September 18, 2012

بارشوں سے تباہی اندازے سے زیادہ ہوئی

محترم دوستوں، اسلام و علیکم 
کندھکوٹ (سندھ) میں ہم لوگ فری میڈیکل کیمپ اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی  کر رہے ہیں اور پوری کوشش کر رہے ہیں کہ بارش سے متاثرہ اپنے بھائی، بہنوں کے لئے جو بھی کر سکتے ہیں کریں. آپ بھی اپنے بھائی بہنوں کی خدمات کرنے کے لئے یہاں تشریف لا سکتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے فلاحی کم سر انجام دے سکتے ہیں، ضرورت ہے صرف خدمت انسانیت کے جذبے کی اور اپنے بھائی بہنوں کے لئے فکر مند  ہونے کی.

پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں سے ابتدائی اندازوں سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔
سندھ کی صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق حالیہ بارشوں سے ایک سو بتیس افراد ہلاک اور ساڑھے چار سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں تیرہ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
دوسری جانب بارش سے متاثرہ علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔
صوبہ سندھ کے شہر کندھ کوٹ میں پیر کے روز بارشوں کے متاثرین نے سندھ بلوچستان روڈ پر کئی مقامات پر ٹائروں کو نذر آتش کر کے احتجاج کیا ہے، بڈانی کے مقام پر احتجاج کے دوران احتجاجی دھرنا بھی دیا گیا۔
مظاہرین کے رہنماء منور بھٹو نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ انہیں خیمے، راشن یا ادویات کی ضرورت نہیں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے علاقے سے پانی کی نکاسی کی جائے مگر ان کی یہ بات کوئی سننے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے الزاام عائد کیا کہ مقامی زمیندار کی زمین بچانے کے لیے پانی کا رخ بڈانی کی طرف کر دیا گیا۔
کندھ کوٹ کے بائی پاس روڈ پر کئی لوگ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوئے ہیں۔
مسمات کونج نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تمام جمع پونجی پانی میں بہہ گئی ہے، اناج، کپڑے، بستر، بچیوں کا جہیز سمیت کچھ بھی نہیں بچا ہے۔
بقول ان کے ندی نالوں سے پانی بھی آ رہا تھا اور بارش بھی جاری رہی، اب تو ان کے پاس کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔
صوبائی مشیر برائے محکمۂ آفات اور بحالی حلیم عادل شیخ بھی اس احتجاج کے دوران کندھ کوٹ میں موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں رپورٹ دی گئی تھی کہ یہاں دس ہزار خیمے اور بیس ہزار کے قریب راشن کے تھیلوں کی ضرورت ہے مگر یہاں آ کر پتہ چلا ہے کہ متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ پچاس ہزار کے قریب ہے۔
ان کے مطابق جیسے جیسے بلوچستان کے پہاڑوں سے پانی آ رہا ہے، اس سے متاثرہ علاقے اور متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن حکومت کی جانب سے امداد کم اور ضرورت زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کندھ کوٹ کے علاوہ، کشمور، جیکب آباد، شکارپور اور گھوٹکی بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
صوبہ سندھ کو دو ہزار دس سے سیلاب اور شدید بارشوں کا سامنا ہے لیکن وقت کے ساتھ غیر سرکاری اداروں کے کردار میں واضح کمی نظر آئی ہے۔
صوبائی مشیر حلیم عادل کا دعویٰ تھا کہ انہیں متاثرہ علاقوں میں غیر سرکاری اداروں کا کوئی کردار نظر نہیں آیا اور اقوام متحدہ کو تو اپیل کی ضرورت ہوتی ہے مگر دیگر امدادی اداروں کو تو خود سامنے آنا چاہیے۔
’عام حالات میں ہر ہفتے دو تین تنظیمیں آجاتی ہیں کہ تربیت کرتے ہیں، ملاقات کر لیتے ہیں، مگر اس صورتحال میں ان میں سے کوئی نظر نہیں آ رہا ہے۔ ان تربیتی پروگرامز اور دوروں سے لوگوں کا پیٹ نہیں بھرتا۔‘
بارش کے پانی کے باعث سندھ اور بلوچستان کا زمینی رابطہ گزشتہ چھ روز سے منقطع ہے کئی جگہوں سے پانی سڑک بہا کر لے گیا ہے۔
حالیہ بارشوں سے بلوچستان کے جعفرآباد اور ڈیرہ الہیار کے علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں جہاں پاکستان فوج کی جانب سے بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ صوبائی حکومت کے مطابق نصیر آباد اور جعفرآباد میں چھ لاکھ افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
کمشنر نصیر آباد اکبر ترین کا کہنا ہے کہ دونوں اضلاع میں نوے فیصد لوگ متاثر ہیں۔کشتیوں اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں پانی کی سطح میں کمی ہو رہی ہے تاہم محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان ہے جس کے باعث دریائے چناب، جہلم اور راوی میں سیلابی صورتحال ہو سکتی ہے۔

وقت اشاعت:  منگل 18 ستمبر 
2012 ,‭ 07:18 GMT 12:18 PST


ہماری فلاحی  سے رابطہ کرنے کے لئے 
faryal.zehra@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com
mansoorahmad.frnd@yahoo.com
+92 313 279 8085
 +92 324 265 2046

ہم کو یہاں پینے کے صاف پانی کی بہت زیادہ ضرورت ہے اس کے علاوہ جراثیم کش ادویات، اور دیگر ادویات جو کے ہمارے فری میڈیکل کیمپ کے لئے ضروری ہیں کی اشد ضرورت ہے. آپ کسی بھی انداز یا طریقے سے ان مثبت زدہ بھائی بہنوں کی مدد کر سکتے ہیں.
یا ہماری مدد کرنے کے لئے ہم سے اوپر دیے گئے ای میل یا کونٹیکٹ نمبر پر رابطہ کریں.
بیرون ممالک مے مقیم دوست اور ساتھی اگر ہماری مدد کرنا چاہیں تو درج ذیل کے ذریعے کر سکتے ہیں.
اپنے عطیات ہم کو روانہ کرتے وقت براہ کرم ایک ای میل یا ٹیکسٹ میسیج ضرور بھیجیں تاکہ ہم اپنے حساب کتاب کو یہاں (بلاگ) اور اپنے دیگر ساتھیوں اور قومی اداروں کے سامنے باسانی پیش کر سکیں.
ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ کی دی ہوئی ایک ایک چیز ہم انشا الله پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے مثبت زدہ بھائی اور بہنوں تک پہنچائیں گے.

عطیات وغیرہ کے لئے:
Account title:  Mansoor Ahmed
Account number: 0010088246
Bank: United Bank Limited (UBL)
Branch: Gulistan e Joher
City: Karachi
Branch Code: 1921
Swift Code: UNILPKKA

 

Thursday, September 13, 2012

ہم کندھ کوٹ (سندھ) میں اور کراچی میں ایک عظیم سانحہ

اسلام و علیکم،
میں (منصور) اپنی ریلیف ٹیم (جس کی تفصیلات پچھلی پوسٹ میں موجود ہیں) کے ہمراہ یہاں کندھ کوٹ (سندھ) پہنچ گیا ہوں. کراچی سے یہاں تک کے سفر کے دوران ہم کو جگہہ جگہہ بارش اور بارشوں سے متاثرہ لوگوں کا سامنا کرنا پڑا، (افسوس) کے پچھلی بارشوں سے متاثرہ لوگ ہی ابھی تک اپنے گھروں تک نہیں جا سکے ہیں کہ ایک اور امتحان ہماری عوام کے سامنے آگیا ہے، الله پاک ہم سب (پاکستانی قوم) کو ان امتحانات سے سرخرو ہونے کی توفیق اور ہدایت عطا فرماے - آمین.

ہم لوگ انشا الله کل صبح سے ہی کندھ کوٹ کے سب سے زیادہ متاثر علاقے میں جا کر اپنے متاثرین بھائی، بہنوں اور بچوں میں غذائی اجناس تقسیم کریں گے اور پوری کوشش کریں گے کہ ہم کل ہی اپنا پہلا فری میڈیکل کیمپ یہاں لگا سکیں.

ایک افسوسناک سانحہ:
کراچی میں فیکٹری میں لگی آگ سے جھلس کر شہید ہونے والے افراد کے لئے ہم سب اب سے کچھ دیر بعد فاتحہ خوانی کر رہے ہیں جس میں انشا الله یہاں (کندھ کوٹ) کے مقامی افراد بھی بری تعداد میں شریک ہونگے.
ان افراد اور ان کے اہل خانہ کے لئے بہت کچھ کہا جا چکا ہوگا، مگر جس درد اور کرب سے یہ خاندان اس وقت گزر رہے ہونگے اور سری عمر گزرتے رہیں گے کا اندازہ لگانا نا ممکن ہے. ہم سب اب صرف ان خاندانوں کے لئے الله پاک سے صبر اور ہمت کی دعا کر سکتے ہیں. 
"الله پاک ان خاندانوں، شہید ہونے والے افراد کے لواحقین، احباب اور پوری قوم کو صبر اور ہمت عطا فرماۓ - آمین."

یہ کوئی حادثہ ہر گز نہیں کہلایا جا سکتا بلکہ کچھ افراد کی غفلت، دنیا میں امارت بنانے کی کوشش میں الله پاک کے قوانین کو بھول جانے کی غفلت،  اور بے بس لوگوں کے بے بسی کا عملی مظاہرہ تھا. 

پاکستانی میڈیا (پرنٹ اور الیکٹرونک) کو بہت بہت مبارک ہو کہ "آپ سب کو کیش بنانے کا اور اپنے اداروں کو بہتر سے بہتر ثابت کرنے کا اور انسانیت کی بربادی کا تماشا دکھانے کا ایک اور موقع مل گیا."

جب سے ہوش سمبھالا ہے یہاں (پاکستان) میں اتنے حادثے اور سانحات دیکھے ہیں مگر کسی ایک بھی سانحہ کے مکروہ کردار نہ ہی عوام کے سامنے لائے گئے اور نہ ہی کسی عدالت میں ان کو سزا ہوئی. مگر ہمارا ایمان ہے کہ جس دں الله پاک کی عدالت لگے گی، اس دں ان سب مکروہ لوگوں کا ایسا احتساب ہوگا کے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن نہ ہوگا، اس وقت نہ ہی کسی کا کوئی پیسہ کام آئے گا، نہ ہی کوئی جان پہچان، نہ ہی کوئی رشتے داری نہ ہی کوئی پارٹی، نہ ہی کوئی پیر اور نہ ہی کوئی فقیر، نہ ہی کوئی ویزا اور نہ ہی کوئی حکومت. وہ دں سزا اور جزا کا دں ہوگا جب صرف ایک ہی منصف ہوگا اور کسی گواہ کی ضرورت نہ ہوگی. اس دں ایسے مکروہ لوگوں کا انجام دیکھ کر تمام مظلوم لوگ الله کی حمد و ثنا کرتے ہوۓ جنت میں داخل ہو جائیں گے اور ان مکروہ لوگوں کا انجام اور منزل جہنم اور صرف جہنم ہوگی. 
رہی کسی بھی طرح کی رپورٹ یا تحقیقات کی بات تو یہ سب ڈرامہ ہے، جو کے اہل اختیار میڈیا کے ساتھ مل کر کھیل رہے ہیں. سانحہ ائر بلیو، سانحہ بھوجا ائر، کراچی میں محرم کے جلوس کے لوگوں کے قاتل، گلگت میں بسوں سے اتار کر اور شنقت کر کے لوگوں کو قتل کرنے والے لوگ، خان لیاقت علی خان کے قاتل، کوئٹہ میں ہزارہ وال کے بھائی بہنوں کے قاتل اور ہر طرح کے حادثے اور سانحے کے لئے بہت کمیشن بنے مگر کوئی ایک بھی کیفر کردار تک نہیں پہنچا تو اس عظیم اور دردناک سانحے کی کوئی رپورٹ یا کمیشن کا بگاڑ لے گی. کچھ روز (جب تک میڈیا والوں کا پیٹ نہ بھر جاۓ یا کوئی اور نرم گرم خبر ان کو نہ مل جاۓ) ہا ہا، واویلہ مچے گا، کچھ فوٹو سیشن ہونگے، کچھ دولت کے برسات کا مظاہرہ ہوگا کہیں سیاست چمکے گی، کہیں نام نہاد ملا (مولوی) صیہونی اور یہود و ہنود کو اس کا ذمہ دار بنائیں گے اور معاملہ آہستہ آہستہ پچھلے معملات کی طرح تاریخ میں کہی کھو جاۓ گا
اور مجھ سمیت ہر پاکستانی کسی فرشتے، آسمانی مخلوق، معجزے، انقلاب کی امید میں ہی یا تو بس کف افسوس ملتا رہے گا یا پھر الله سے دعا مانگتا رہے گا، بھلا دعا بھی بغیر کسی عمل کے قبول ہوئی ہے؟

"خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
 نہ ہو جس قوم کو شعور خد اپنی حالت بدلنے کا. . . "

میں اور میرے ساتھی متاثرہ خاندانوں کےغم، دکھ، تکلیف اور مصائب کی کمی، صبر اور ہمت کے لئے الله پاک کے حضور دعاگو ہے اور رہے گے. الله پاک ہم سب کو توبہ کرنے کی توفیق عطا فرماۓ، ہم کو ہدایت عطا فرماۓ اور مکروہ لوگوں کی چالوں، شر، فتنہ سے محفوظ رکھے - آمین.

آپ کی دعاؤں کے محتاج 
منصور، فریال، ندیم اور دیگر دوست