Sunday, May 12, 2013

میری آواز سنو! (شمالی وزیرستان سے سیدہ فریال کا ایک خط)

محترم دوستوں، ٹیم آشیانہ  وزیرستان کے کارکنان اور ان کے گھر والے، آشیانہ کیمپ اور اسکول کو فنڈز دینے والے اور جہاں جہاں تک میری آواز یا بات پڑھی جا رہی ہے سب ہی کو شمالی وزیرستان سے سیدہ فریال زہرہ کی طرف سے اسلام و علیکم.

آج میں نہ ہی کویچندہ مانگو گی نہ ہی کسی قسم کی بھیک، نہیں ٹیم آشیانہ یا آشیانہ کیمپ اور اسکول کے لئے مدد کیاپپیال کروں گی. آج میں جو بھی لکھ رہی ہوں وہ میرے دل کی آواز ہے. اب جب برداشت نہیں ہورہا تو سوچا ہے کہ جو بھی میرے دل میں ہے وو آپ سب کے ساتھ یہاں بتا دوں.

موت برحق ہے اور ہر حال میں آنی ہے. جب مرنا ہے ہے تو ڈرنا کیسا؟ بہت در در کر جی لیا، مگر اب اورنہی. آگے بات بڑھنے سے پہلے میں اپنا تھوڑا سا تعارف کرا دیتی ہوں. میرا نام فریال ہے،پورا نام آپ اپر پڑھ چکے ہیں کراچی میں پیدا ہوئی مگر کچھ وجوہات کی بنا پر کینیڈا شفٹ ہوئی. ٢٠٠٥ کے زلزلے کے بعد جب سید عدنان علی نقوی بھائی نے فلاحی کاموں کا آغاز کیا تو ان سے رابطے میں آی اور گزشتہ ٢ برس سے ٹیم آشیانہ (شمالی وزیرستان) سے منسلک ھوں. 
گزشتہ ٢ برسوں کے دوران مجھ کوٹیم آشیانہ کے ساتھ فلاحی کاموں میں حصہ لینے کا بھرپور موقع ملا، میں کافی دفع پاکستان آی اور شمالی وزیرستان میں رہی. یہاں کے نامساعد حالات، اور بہت خراب صورت حال کے باوجود عدنان بھائی کا حوصلہ دیکھ کر مجھ کو بھی بہت ہمت ہوئی. اور میں نے ٢ ماہ قبل مکمل طور پر پاکستان شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا اور سوچا کہ اپنی باقی زندگی میں عدنان بھائی کے ہمراہ فلاحی کاموں کے لئے وقف کر دوں گی.  میں کینیڈا میں اپنی نوکری کو چھوڑ کر پہلے اسلام آباد آی اور پھر میرانشاہ، شمالی وزیرستان منتقل ہو گئی، یہ میرے لئے پہلی دفع نہی تھا مگر اس دفع جذبہ اور جنوں پہلے سے کہیں زیادہ اور غیر متزلزل تھا. میں نے عدنان بھائی کو صاف صاف کہ دیا کہ میرا جینا مرنا صرف اور صرف پاکستان کے لئے ہوگا، اور میں یہاں (شمالی وزیرستان) میں رہ کر یہاں بچوں اور خواتین کفلہ و بہبود کے لئے کام کروں گی. اپنے پچھلے دوروں کے دوران میں نے مقامی زبان میں ٹھوڈی بہت مہارت حاصل کری ہے اور پوری کوشش کر کے میں خود کو یہاں کے ماحول کے مطابق ڈھال سکوں. اور یہاں کے لوگوں کے درمیان رہتے ہوۓ بچوں اور خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے کام کروں. 

ٹیم آشیانہ جو کافی عرصے سے شمالی وزیرستان میں فلاحی و سماجی خدمات سر انجام دے رہی ہے میرانشاہ سے قبل دتہ خیل میں اپنا کیمپ لگائے  ہوۓ تھی. مگر کچھ وجوہات کی بنا پر وہ کیمپ میرانشاہ منتقل کر دیا گیا. اور آج کل یہیں مقیم ہیں. 

شمالی وزیرستان میں فلاحی و سماجی خدمات سر انجام دیتے ہوۓ میں نے بہت کچھ سیکھا، یہاں کے رسم و رواج، یہاں کے لوگوں کے سوچنے کا انداز، زندگگزرنے کا طریقہ اور یہاں کے لوگوں کے مسائل. میںنے خدکوبچوں کی تعلیم و تربیت اور خواتین کی صحت سے متعلق فلاحی کاموں سے منسلک کر لیا. امید یہی کر رہی تھی کہ شاید میرے یہاں رہتے میں کچھ بہتر انداز میں فلاحی کام کر سکوں گی. مگر ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہو سکا. پورا شمالی وزیرستان زخموں سے چور چور ہے، یہاں کے مقامی رہنے والے  کبھی اپنوں کی جارحیت اور کبھی غیروں کے حملوں کا شکار رہتے ہیں. ہر طرف خوف و دہشت کے سائے ہمیشہ منڈلاتے  رہتے ہیں. مقامی حکومت اور قانون کی رٹ ڈھونڈھنے سے بھی نظر نہیں آتی. ہر طرف مختلف خان، ملک اور کچھ جنونیوں کا زور ہے. جس کا جہاں زور چلتا ہے وو اپنی حکومت بنا کر بیٹھا ہے. ایسے میں ہمارے پاک فوج کے جوان، ہمرے سیکورٹی اداروں کے جوان، حالت جنگ میں رہتے ہوۓ شمالی وزیرستان کو کسی نہ کسی طرح سے پاکستان سے جوڑے رکھے ہوۓ ہیں. مجھ کواور پوری ٹیم آشیانہ کو اپنے ان بہادر، نڈر جوانوں پر فخر ہے. آج اگر یہ جوان اپنی جانوں کی قربانی نہیں دیتے تو پاکستان کب کا ٹوٹ  چکا ہوتا. 

میں جب تک کینیڈا میں تھی تو میرے سامنے پاک فوج کا ایک ہی کردار تھا وہ تھا کہ یہ فوجی ہمیشہ حکومت میں رہنے کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں اور کوئی نا کوئی آمر پاکستان پر قابض ہی رہتا ہے. مگر پاکستان آجانے کے بعد بہت قریب سے پاکستانی حالات، یہاں کے سیاسی و سماجی ماحول اور پاکفوج کے کردار کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا اور جو کچھ میں نے سکھا وو آج آپ کے سامنے لکھ رہی ہوں.

ایک بات آپ اچھی طرح سمجھ لیں، اگر آج پاکستانی اپنے پیروں پر کھڑا ہے، پاکستان کی سرحدیں اپنی جگہ موجود ہیں. تو صرف اور صرف پاک افواج کی وجھہ سے ہیں. پاکستان میں جب بھی انتشار، خلفشار بڑھا ہے تو پاک فوج نے اپنی ذمے داریاں نبھائی ہیں. اور بہت کامیابی سے نبھائی ہیں. شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے کردار کو اور کامیابیوں کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا. مرنہسہ میں موجود اسپتال، اسکول اور تھوڑی  بہت زندگی کی علامت پاک افواج کی ہی مرہوں منت ہے. 

گزشتہ ٢ (دو) ماہ کے دوران میں نے یہاں بچوں کو مختلف بیماریوں سے مرتے  دیکھا ہے،خواتین کا کوئی پرسان حال نہیں. ٣ (تین) دفع آشیانہ کیمپ اور اسکول جو کہ ایک ٹینٹ میں بنایا گیا ہے مسمار کر دیا گیا، ٹیم آشیانہ کے کارکنان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گیں. ہمارے امدادی سامان کو لوٹا گیا، عدنان بھائی اور دیگر فلاحی کارکنان کو جن میں سے زیادہ تر کا تعلق یہاں (شمالی وزیرستان) سے ہی ہے، بری طرح مارا، پیٹا گیا. مجھ کو اپنی زندگی کی بقا کے لئے یہاں کے مقامی بھائی، بہنوں نیں پناہ دی. اور ہماری پوری ٹیم آشیانہ ٹوٹ پھوٹ گئی، آشیانہ کیمپ جلا دیا گیا، آشیانہ اسکول سے تمام درسی سامان، ادویات، اجناس لوٹ لی گیں. ہم سب اپنی زندگی سے مایوس ہو گئے اور پھر سوچا چلو سب ختم ہوا اپنے اپنے گھروں کو چلتے ہیں. ایسے میں مقامی لوگوں نے عدنان بھائی کو ہمت دی، پوری ٹیم آشیانہ کو پناہ دی اور کچھ لوگوں نے عدنان بھائی کی ملاقات ان لوگوں سے کروائی جو نہیں چاہتے تھے کہ یہاں کوئی اسکول بنے، یہاں کوئی امدادی، فلاحی کاموں کو سر انجام دے. اور پھر...... ہم میں سے ہر کسی کو پہلے یہ ثابت کرنا پڑا کہ ہم کتنے مسلمان ہیں؟ ہم کوکتنے اسلامی اراکین یاد ہیں اور ہم کتنے فرائض پر عمل پیرا ہیں. اللہ نے مدد کری اور ہم کسی حد تک کامیاب رہے. ہم کو بہت محدود پیمانے پر ایک دفع پھر سے فلاحی کاموں کوجاری رکھنے کی اجازت دی گئی، آشیانہ کیمپ اور اسکول کو ایک دفع پھر سے لگانے کی اجازت دی گئی. اس شرط پر کہ مقامی سردار کسی بھی وقت اسکول اور اس میں پڑھائے جانے والے نصاب کو چیک کر سکتے ہیں اور اگر جو یہاں پڑھایا جا رہا ہے اگر کسی بھی طرح سے شمالی وزیرستان کے ماحول اور تہذیب کے مخالف ہوا تو کیمپ کے ساتھ  ساتھ اسکول کوکسی بھی وقت بند کر دیا جائے گا اور ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان کو گرفتار کر کے مقامی عدالت (جرگہ) کے سامنے پیش کیا جائے گا،جہاں اگر ہمارا جرم ثابت ہوتا ہے تو سزا دی جائے گی اور شمالی وزیرستان سے بے دخل کر دیا جائے گا. ہم سب نے سکھ کا سانس لیا اور آئیکنائے جذبے کے ستہ فلاحی کام کرنا کیا.  شمالی وزیرستان کی تہذیب و تمدن کو   دیکھنا ہے تو صرف میرانشاہ تک آجائے یہاں پورے شمالی وزیرستان کے رہنے والے بہت بڑی تعداد میں رہتے ہیں، یہ لوگ میرانشاہ میں امن وسکون، روزگار اور بہتر زندگی کی تلاش میں آئے ہیں. مگر افسوس کے یہاں بھی ان کو وہ سب نہیں مل سکا جس کی ان کو  تلاش ہے اسی مجبوری میں کچھ لوگ یہاں رہ گئے اور کچھ واپس اپنے اپنے علاقوں میں واپس چلے گئے. 

میں کیا کروں میری سمجھ نہیں آرہا ہے، میںابھی یہاں ہی روکوں یا واپس کینیڈا چلی جاؤں.میںیہاں کے لوگوں کے لئے فلاحی کام کرنا چاہتی ہوں، یہاں رک کر یہاں کے بچوں اور خواتین کی فلاح کے لئے کام کرنا چاہتی ہوں مگر کچھ لوگوں نے یہاں میرے کام کرنے پر پابندی لگا دی ہے. میںنے اس پر احتجاج بھی کیا مگر عدنان بھائی نے مجھ کویہی کہا کہ یہاں کہ حالت کے مطابق ہم کو کچھ بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے جس سے ہمارے فلاحی کاموں کے  مشن کو کسی بھی طرح کا کوئی نقصان پہنچے. میں نے یہاں بھوک دیکھی ہے، افلاس دیکھا ہے، مختلف بیماریوں سے بچوں اور خواتین کو مرتے دیکھا ہے، یہاں کے لوگوں کی بے بسی دیکھی ہے. یہاں کے لوگوں میں کرب اور اذیت محسوس کری ہے.  مگر اب میری بھی ہمت ختم ہوتی جا رہی ہے.

آشیانہ کیمپ کو ملنے والے فنڈز بہت کم ہو گئے ہیں. میں چاہ کر بھی بہت کچھ نہیں کر پا رہی ہوں. یہاں غذائی اجناس، ادویات نہ ہونے کے برابر ہیں. ہم کو آج کل اپنی بھوک مٹانے کے لئے مقامی لوگوں پر انحصار کرنا پڑھ رہا ہے. پوری ٹیم آشیانہ ایک دفع پھر سے آشیانہ کیمپ اور اسکول کو بنانے پر لگی ہوئی ہے اور میں ایک مقامی کارکن کے گھر میں بیٹھی ہوں. گھر سے بہار نکلنا بند ہے. عدنان بھائی کہتے ہیں کہ جب تک حالات ٹھیک نہیں ہو جاتے مجھ کو اسلام آباد یا پشاور چلا جانا چاہیے، حالات کی بہتری پر میں واپس یہاں آجاؤں. مگر میں اب کہیں نہیں جانا چاہتی کسی بھی قیمت پر نہیں. 

آپ سب مرلے دوا کریں کے الله مجھ کو  ہمت دے، حوصلہ دے، اور میرے جوش و جذبے کو برقرار رکھے. انشا الله بہت جلد آشیانہ اسکول  میرانشاہ میں ایک دفع پھر سے قائم ہو جائے گا جہاں میں یہاں کی معصوم بچوں (لڑکیوں) کو تعلیم دوں گی.

جب جب موقع ملا میں ضرور آپ سے بات کروں گی. 

آپ سب کی دعاؤں کی محتاج 
سیدہ فریال زہرہ 
کارکن، ٹیم آشیانہ 
آشیانہ کیمپ / اسکول، میرانشاہ، شمالی وزیرستان.

Wednesday, May 8, 2013

ماشکیل (بلوچستان) کے زلزلہ متاثرین کی مدد کی کوشش

محترم دوستوں اور ساتھیوں 
اسلام و علیکم 

الله پاک کی ذات سے امید کرتے ہیں کہ آپ جہاں کہیں بھی ہونگے خیریت و عافیت کے ساتھ ہونگے، الله پاک اپنی رحمتوں کا سایہ آپ سب پر سلامت رکھے - آمین.

الحمد الاللہ، کراچی اور بلوچستان میں موجود ہمرے کچھ دوست، احباب اور ساتھیوں نے مل کر گزشتہ دنوں بلوچستان میں آے زلزلے سے متاثرہ افراد کے لئے اپنے طور پر جو کچھ ہو سکاامداد جمع کری اور پہنچائی. گو کے یہ امداد بہت قلیل تھی اور بہت محدود تھی مگر اس کے باوجود ہمارے دوستوں سے جو کچھ بھی ہو سکا وہ کیا.  ہمرے دوست قلیل فنڈز کی وجہہ سے بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں اپنے زلزلہ زدگان بھائی، بہنوں اور بچوں کے لئے کسی بھی طرح کا امدادی / مفت طبی امداد  /غذائی اجناس کی تقسیم کا کیمپ لگانے سے قاصر رہے جس کے ہم سب کو بہت افسوس اور ملال ہے.  

کراچی سے ہمرے محترم دوست اور ساتھی، منصور بھائی بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں زلزلہ متاثرین کی مدد کے لئے امدادی سامان لے کر گئے اور جو کچھ ان پر گزری وو کچھ اس طرح ہے.

16 اپریل کا دن، میں بچوں کو ٹیوشن پڑھنے گلستان جوھر پہنچا ہی تھا. ابھی صوفے پر بیٹھ کر دم لینے کی کوشش کر رہا تھا کے ایسا لگا جیسے مجھ کو چکر آرہے ہیں، یا پیروں کے نیچے سے زمیں سرک / کھسک رہی ہے مگر اگلے ہی لمحے بچوں کی والدہ کی لرزہ خیز آواز آئی بہار نکلو سب زلزلہ. اور میں دم بخود. سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہم کراچی والوں کے پاس پہلے ہی بہت کم ہے. بس یہی سمجھ آیا کے گھر سے باہر جانا ہے، ننگے پاؤں گھر کے دروازے سے باہر قدم رکھا تو ایک افرا تفری تھی کسی کو نہی پتا تھا کہ کہاں جانا ہے؟ کیا کرنا ہے؟ کیوں کرنا ہے؟ بس لوگ ادھر ادھر بھاگتے نذر آرہے تھے. کوئی الله کا نام زور زور سے لے رہا تھا، کوئی مختلف قرآنی آیات پڑھ رہا تھا. کوئی کلمہ پڑھ رہا تھا پس جس کی جو سمجھ میں آرہا تھا کرنے کی کوشش کر رہا تھا. میں بھی ایک طرف کھڑا ہو گیا. کبھی آسمان کی طرف دیکھتا کبھی زمیں کی طرف. مگر ہر طرف جیسے ایک دم سے سکوت طاری تھا. کچھ دیر بعد حواس بحال ہوۓ تو اندازہ ہوا کہ ہم سب ایک بہت بری تباہی سے بچ گئے (قوم ایک عظیم سانحے سے محفوظ ہو گئی). پھر جتنے منہ اتنی ہی باتیں. کوئی عذاب الہی کی آمد کی اطلاع دے رہا تھا، کوئی اس کو انسانی غفلت کا نتیجہ بتا رہا تھا، اکثر موبائل فون پر ایک دوسرے کو زلزلے کے دوران آپ بیتی سے آگاہ کر رہے تھے. میری والدہ کا فون آیا خیریت پتہ کری اور میں نے اپنے ٹیوشن کے بچوں سے پوچھا کہ آج پڑھنا ہے کے نہیں؟ جواب ملا آج نہیں، آج ہم خوفزدہ ہیں. میں نے سلام کر کے رخصت لی اور اگلی منزل کی جانب روانہ ہوا. جہاں جہاں گیا موضوع  آج کا زلزلہ ہی تھا. سب لوگ باتیں کر رہے تھے. مگر انجام سے بے خبر. بس رہے نام الله کا !!!

شام ہوئی پھر رات ہوئی، گھر پہنچا تو یہاں بھی وہی زلزلہ کہانی چل رہی تھی. اسس زلزلے کا ایک بہت بڑا کارنامہ جو مجھ کو نظر آیا وہ یہ تھا کے پوری قوم (پاکستانی) خاص کر جہاں جہاں زلزلہ یا اس کے اثرات سے لوگ متاثر ہوۓ تھے ایک ساتھ نہایت خشو و خضو، عجز و انکساری، با ادب و احترام الله کو یاد کیا گیا اتنا شاید اس سے پہلے نہیں کیا گیا تھا. وجہہ الله کی رضا ہو یا کچھ اور مگر موت کا خوف بہر حال سب پر حاوی تھا. 

محترم عدنان بھائی اور ٹیم آشیانہ (شمالی وزیرستان) کے ساتھیوں کی اپیل پر میں اور میرے گھر والے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر سارا ماہ کچھ نہ کچھ امدادی سامان جمع کرتے رہتے ہے اور جیسے ہی موقع ملتا ہے ہم اس امدادی سامان کو میرانشاہ شمالی وزیرستان روانہ کر دیتے ہیں. گزشتہ دنوں جمع کیا گیا کچھ امدادی سامان میرے پاس موجود تھا اور رات سونے سے پہلے میں نے سوچا کے اس سامان کو میرانشاہ بھیجوں یا حلیہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں؟ پھر سوچا صوبۂ تک بہتر اندازہ ہو جاۓ گا کے پاکستان کے کون کون سے علاقے اسس زلزلے سے متاثر ہوۓ ہیں اسی کے بعد کوئی فیصلہ کرنا  مناسب ہوگا. 

اگلی صبح، میں نے عدنان بھائی، فریال باجی، اکرم بھائی (مقیم میرانشاہ، شمالی وزیرستان) کے فون پر پیغام بھیجا کے مجھ سے رابطہ کریں) ساتھ ہی ایک ایمیل بھی کری اور اپنے خیالات کا اظہار کیا. پڑھانے کے لئے اسکول روانہ ہوا. دن گزرتا گیا. اسکول سے فارغ ہو کر بچوں کو ٹیوشن دینے کے لئے گیا وہیں کچھ دیر ٹیلیویزن پر خبریں دیکھیں اور اندازہ ہوا کہ بلوچستان، ایران زیادہ متاثر ہوے ہیں. ایران جانا میرے بس میں نہیں تھا. بلوچستان کے حالات سے خوفزدہ تھا، اور ابھی تک عدنان بھائی و دیگر سے کوئی رابطہ بھی نہیں ہو سکا تھا. شام کے 4 بجے مجھ کو عدنان بھائی کے پیغام موبائل فون پر ملا کہ  "کال کرو" . میں نے فوری کال کری، میرانشاہ میں مقیم دوستوں اور ساتھیوں کی خیر خیریت معلوم کری. کراچی کے حالات سے آگاہ کیا اور عدنان بھائی سے بلوچستان جانے اور جمع شدہ امدادی سامان وہاں تقسیم کرنے کی اجازت مانگی. عدنان بھائی نے مجھ سے پوری تفصیلات حاصل کریں اپنی مجبوریوں آشیانہ کیمپ (میرانشاہ) کے حالات سے آگاہ کیا اور آخر میں جو پرابلم سب سے بڑی سامنے آی وہ یہ تھی کہ ہم نے یہ تھوڑا بہت جو امدادی سامان جمع کیا تھا وہ آشیانہ کیمپ کے نام پر کیا تھا، اب اس سامان کو کس طرح سے بلوچستان کے زلزلہ متاثرین میں تقسیم کیا جاسکتا ہے؟ میرے پاس بھی کوئی جواب نہیں تھا. میں نے بوجھل دل کے ساتھ عدنان بھائی کو کہا کہ میں جتنا جلدی ممکن ہوتا ہے یہ جمع شدہ سامان میرانشاہ روانہ کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں. آپ اپنا خیال رکھیں اور ہم سب کی طرف سے سب کو سلام  دیں.
فون بند کرنے کے بعد میں نے باقی بچوں کو ٹیوشن پڑھایا، اور رات گھر روانہ ہوا. سارا وقت یہی سوچتا رہا کہ کبھی کبھی ہم کتنے مجبور ہو جاتے ہیں. یہ دینداری، دیانتداری ایمانداری سے فلاحی کام سر انجام دینے کا فیصلہ بہت ہی مشکل اور کٹھن ہے. اے الله ہماری مدد فرما - آمین. رات کا کھانا کھاتے وقت میری والدہ نے مجھ سے پوچھا کے میرانشاہ کی کوئی خیر خبر؟ تم لوگ بلوچستان کے زلزلہ زدگان کے لئے بھی کچھ کرنے کا ارادہ کر رہے ہو کیا؟ میں نے خاموشی سے سر جھکا دیا. ٹی، وی پر ایک خبر چلی کہ، قومی سلامتی کے اداروں اور پاک افواج نے بلوچستان کے زلزلہ متاثرین کے لئے بینالاقوامی امداد کی اپیل جاری کری ہے. میں نے جلدی جلدی کھانا کھایا اور انٹرنیٹ پر بیٹھ کر بلوچستان کے زلزلہ زدہ علاقوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر. تھوڑی محنت کے بعد جو کچھ حاصل ہوا وہ کچھ ایسا تھا. 
"ایران پاکستان بارڈر ملحقہ بلوچستان زلزلے سے بہت متاثر ہوے ہیں. پاک افواج اور دیگر ادارے متاثرین کی مدد کر رہے ہیں. اور امدادی سامان کی ترسیل و تقسیم کا کام سر انجام دے رہے ہیں. مشکل کے ایسے موقعوں پر سب سے پہلے ہمارے قومی سلامتی کے ادارے ہی آگے بڑھتے ہیں اور عوام کے درمیان ہر قسم کی مدد کرنے کے لئے موجود ہوتے ہیں. میں نے اپنے طور پر انتہائی ضروری سامان کی فہرست ترتیب دی اور صبح سے بلوچستان کے زلزلہ متاثرین کے لئے امدادی سامان جمع کرنے کا پروگرام بنایا. 
صوبۂ میں نے اپنے اسکول (جہاں میں پڑھاتا ہوں) میں لگنے والی اسیمبلی کے دوران بچوں اور دیگر اساتذہ سے مدد کی درخواست کری. دن میں جہاں جہاں ٹیوشن پڑھانے جاتا ہوں وہاں سب سے درخواست کری کے جو بھی امدادی سامان دے سکتے ہیں مجھ کو دیں. شام تک کچھ بھی جمع نہی ہوا تھا ہاں کچھ لوگوں نے وعدے ضرور کے تھے ان میں سے کچھ کے وفا ہونے کی پوری امید تھی اگر کوئی پورا نہ بھی کرتا تو میرا کس پر کیا زور؟ 

رات گھر آیا تو والدہ نے بتایا کہ میری دونوں بہنوں اور نے کچھ پرانے کپڑے، غذائی اجناس اور ادویات بھیجی ہیں کہ اگر بھائی (بلوچستان) جا رہے ہیں یا کچھ امدادی سامان بھیج رہے ہیں تو یہ بھی روانہ کر دیں. میں نے الله کا شکر ادا کیا کے آغاز تو ہوا. پھر میری والدہ نے بھی اپنے اور کچھ میرے کپڑے نکالے تھے، گھریلو خرچے میں سے کچھ رقم بھی محفوظ کر کے رکھی تھی وہ بھی دی اور کچھ غذائی اجناس بھی آج ہی خرید کر رکھی تھی وہ بھی دیا. میں نے آگے بڑھ کر اپنی امی کو گلے سے لگا لیا، (ماں کی بات ہی الگ ہے، ہمیشہ سمجھ جاتی ہیں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں) میں نے ہمت اور حوصلے کے ساتھ اپنے کچھ دوستوں کو اپنے ارادوں سے آگاہ کیا اور کچھ دوستوں نے اگلے دن ملاقات کا کہا اور اپنے طور پر امدادی سامان و دیگر اشیا جمع کرنے کا بھی کہا. مجھ کو کچھ ہمت ہوئی. رات کو میں نے عدنان بھائی (میرانشاہ) کو پھر ایک پیغم بھیجا کہ وہ ایمیل چیک کریں. اور ساتھ ہی جو کچھ جمع ہوا تھا اس کی تفصیلات بھی بھیج دیں. میں نے جو بھی سامان جمع ہوا تھا ان کی فہرست بنائی اور اپنی پہلی فہرست کے ساتھ ملا کر دیکھی تو آغاز اچھا تھا. بس اب یہ معلوم کرنا باقی تھا کہ بلوچستان کہ کس علاقے میں امدادی سامان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؟ وہاں تک رسائی (پہنچا) کیسے جا سکتا ہے؟ کن اداروں کی مدد حاصل کرنے کی ضرورت ہے؟ اگلی صوبۂ جب میں اسکول پہنچا تو وہاں اکثر بچے اپنے پرانے کپڑے اور کچھ نہ کچھ اپنے ساتھ لے کر آیئے تھے. اساتذہ بھی کچھ امدادی سامان لے کر اے تھے، اسکول کی انتظامیہ کی جانب سے 5000  (پانچ ہزار) کی رقم عطیہ کرنے کا اعلان کیا گیا. اس رحمت پر میں بار بار الله پاک کا شکر ادا کر رہا تھا. اسکول سے چھٹی کے وقت سامان اتنا زیادہ تھا کے میں گھر نہیں لے جا سکتا تھا. چھٹی کے وقت بھی کچھ والدین امدادی سامان اسکول میں چھوڑ گئے تھے. میں نے اسکول کے اساتذہ کی مدد سے تمام سامان کی فہرست بنائی، جس کے بعد سامان کو ترتیب میں رکھ کر اسکول وین کے ذریے اس سامان کو اپنے گھر تک پہنچایا. گھر جا کر میں نے اپنی بہنوں کو فون کر کے کہا کے آج شام گھر آجائیں اور امدادی سامان کو پیک کرنے میں میری مدد کریں. تھودا دیر سے ٹیوشن پڑھنے گیا،  گھن گیا وہاں سے بھی سب لوگوں نے کپڑوں، غذائی اجناس، ادویات اور نقدی کی صورت میں امدادی سامان میرے حوالے کیا. الله پاک کا شکر و احسان ہے. شام تک اتنا سامان ہو چکا تھا کے میں وہ اکیلا لے کر گھر نہیں آ سکتا تھا. کچھ دوستوں کو فون کر کے مدد طلب کری تو ٢ دوست کچھ دیر بعد اپنی گاڑیاں لے کر آگئے اور میں تمام گھروں سے امدادی سامان جمع کر کے اپنے گھر لے آیا. رات تک میرے گھر کا ڈرائنگ روم امدادی سامان سے بھر چکا تھا. میری والدہ نے محلے کے لوگوں سے بھی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق امدادی سامان دینے کی درخواست کری تھی جس کا مثبت جواب ملا تھا اور کچھ لوگ غذائی اجناس اور کپڑے دے کر گئے تھے. میں نے جلدی جلدی کھانا کھایا، میری ایک آ گئی تھی اور کچھ دوست بھی آنا شروع ہو گئے تھے. ہم نے ایک دفع پھر تمام سماں کی فہرست بنی اور تمام سامان کو پہلے سے سکھ ہوۓ طریقے سے پیکٹ بنا کر پک کرنا شروع کیا. میں اس دوران بلوچستان (ماشکیل) کے علاقے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں لگا رہا. میڈیا کے کچھ دوستوں سے بھی مدد طلب کری مگر جواب نہی ملا. رات بھر جاگ کر ہم نے تمام سامان کو جتنا بہتر انداز میں پیک کر سکتے تھے کیا اور فجر کی نماز ادا کر کہ تھوڑا آرام کرنے کی نیت سے لیٹ گئے. 

اگلے دن کی وہی مصروفیت رہی دن تمام پڑھانے میں اور باقی کچھ کرنے کا موقع نہی ملا. ساتھ ہی کچھ اور لوگوں نے امدادی سامان دیا جو میں با آسانی گھر لے آیا. رات کو بلوچستان کے ایک دوست سے رابطہ ہوا جو جھل مگسی میں مقیم ہیں اور انہوں نے اگلے دن کراچی آکر مجھ سے ملنے اور میری مدد کرنے کا کہا. میں اسس جمع شدہ امدادی سامان کو جلد از جلد ماشکیل، بلوچستان پہچانا چاہتا تھا. جو کچھ امدادی سامان جمع ہوا اس کی تفصیلات درج ہیں. 

اگلے دن جھل مگسی سے  میرے وہ دوست کراچی آگئے اور انہوں نے مشکل تک جانے کا راستہ اور دیگر تفصیلات سے اگاہ کیا. بلوچستان میں اپن و امان کی بگڑی ہوئی صورت حال کی وجہہ سے میں تھوڑا فکرمند تھا مگر میری والدہ نے کہا جب تم وزیرستان تک جا کر لوگوں کی مدد کر سکتے ہو تو یہ بلوچستان تو ساتھ ہی ہے، تم اپنی نیت پاک و صاف رکھو الله پاک راستے خود بنا کر دے گا. (سچی بات ہے ایمان کی طاقت سے ہم دنیا کی کسی بھی فکر و غم سے نجات حاصل کر سکتے ہیں)             

میں نے ابھی تک جو کچھ بھی سامان جمع کیا تھا، اس کی ایک لسٹ بنا کر اپنے دوست کو دی اور ایک دفع پھر سارے سامان کی پیکنگ اور دیگر معملات دیکھے الله پاک کا نام لیا اور اگلی صبح ماشکیل (بلوچستان) جانے کا ارادہ کیا، اس بارے میں میں نے کچھ مقامی دوستوں سے بھی بات کری اور اکثر دوستوں نے مجھ کو وہاں ماشکیل (بلوچستان) جانے سے منع کیا وہاں کے حالت کچھ سازگار نہیں اور بہت ممکن ہے کہ میں وہاں جا کر کسی مشکل میں پڑھ جاؤں. میں نے پاکستانی افواج کے مقامی دفتر سے معلومات حاصل کری جہاں سے مجھ کو بتایا گیا کے ماشکیل میں صرف پاک افواج ہی فلاحی خدمات اور متاثرین زلزلہ کی بحالی کا کام سر انجام دے رہی ہیں اور اگر میں وہاں جانا چاہتا ہوں تو مجھ کو وہ (پاک افواج) مقامی طور پر جو سہولیات فراہم کی جا سکی کرے گی. 

اگلی صبح میں نے  تمام سامان پاک افواج کے حوالے کیا اور خود اپنے دوست جو بلوچستان سے آئے تھے کے ہمراہ روانہ ہوا . دوستوں، مشکل یہ ہے کہ میں کراچی کا رہنے والا ہوں اور پوری کوشش کے باوجود بھی بلوچستان کے بگڑے ہوۓ حالات کی بنا پر میں ماشکیل تک نہیں پہنچ سکا اور گوادر (بلوچستان) سے ہی مجھ کو واپس آنا پڑا. مگر مجھ کو بتایا گیا کہ میں اور میرے دوستوں کی جانب سے جو امدادی سامان ہم نے جمع کر کے بلوچستان کے اپنے زلزلہ متاثرین بھائی بہنوں کے لئے روانہ کیا تھا وہ ان تک پہنچ گیا ہے. جزاک الله